From now on ill try to post some beautiful piece of wisdom every Friday here on my blog from different sources.. enjoy the very first one by Ashfaq Ahmed’s Zaavia
میری ایک بھانجی تھی بڑی دیر کی بات ہے. اس کو اپنے دادا سے بہت پیار تھا. ہوتا ہے پوتیوں کو اپنے دادا سے پیار تو، دادا اس کے سیر کرنے جاتے تھے. اچانک فوت ہوگے، تو اس کو بہت صدمہ ہوا. اکیلی بیٹی رہتی تھی. ذرا زیدہ ہی پریشان رہتی تھی، تو ایک دن اس کی گھر کی ملازمہ نے کہا،
“منی تیرا دادا کہاں گیا”.
اس نے کہا میرے دادا روز صبح سیر کو جاتے تھے تو میرے دادا اور الله میاں اکٹھے سیر کیا کرتے تھے. بہت لمبا چکر لگایا تو میرے دادا تھک گئے، تو الله میاں نے کہا، اب تم واپس کدھر جاؤگے . تم میرے گھر میں ہی رہ لو. ریسٹ کرلو تو میرے دادا وہاں ریسٹ کرہے ہیں . تو الله ان کے بڑے دوست ہیں. اتنی گہری بات اس نے کہی، بڑی عجیب و غریب بات کردی. تو یہ مشرق کے لوگ بات کرتے ہوئے مانتے ہیں کہ موت زندگی کا ایک اہم ترین حصہ ہے
“منی تیرا دادا کہاں گیا”.
اس نے کہا میرے دادا روز صبح سیر کو جاتے تھے تو میرے دادا اور الله میاں اکٹھے سیر کیا کرتے تھے. بہت لمبا چکر لگایا تو میرے دادا تھک گئے، تو الله میاں نے کہا، اب تم واپس کدھر جاؤگے . تم میرے گھر میں ہی رہ لو. ریسٹ کرلو تو میرے دادا وہاں ریسٹ کرہے ہیں . تو الله ان کے بڑے دوست ہیں. اتنی گہری بات اس نے کہی، بڑی عجیب و غریب بات کردی. تو یہ مشرق کے لوگ بات کرتے ہوئے مانتے ہیں کہ موت زندگی کا ایک اہم ترین حصہ ہے
